ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ، خطے میں کشیدگی میں اضافہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر امریکا کے کنٹرول میں ہے اور وہاں ناکہ بندی کے باعث کسی جہاز کو ایرانی بندرگاہوں تک رسائی کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ اس ناکہ بندی کے باعث ایران کو روزانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا معاشی نقصان ہو رہا ہے، جو اس کی معیشت پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے کا خواہاں ہے تاکہ اپنی روزانہ کی آمدنی بحال کر سکے، تاہم امریکا اس حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے آبنائے ہرمز کو کھول دیا تو مستقبل میں ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے تک پہنچنا مشکل ہو جائے گا۔
آبنائے ہرمز کی بندش، امریکا ایران مذاکرات کا دوسرا مرحلہ خطرے میں
امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی بحری اور فضائی طاقت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے اور اس کے دفاعی نظام کو بھی کمزور کر دیا گیا ہے۔
ان بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔











